جمعہ 2 اکتوبر 2026 - 20:40
اصلاح کا سفر اپنی ذات سے شروع کرنا چاہیے، حلال لقمہ دل کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے: مولانا سید ابوالقاسم رضوی

حوزہ/ صدرِ شیعہ علماء کونسل آسٹریلیا اور امامِ جمعہ ملبورن، حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید ابوالقاسم رضوی نے خطبۂ جمعہ میں اصلاحِ معاشرہ، حلال رزق کی اہمیت، دعا کی قبولیت اور موجودہ عالمی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصلاح کا سفر ہمیشہ اپنی ذات سے شروع ہونا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ملبورن/ صدرِ شیعہ علماء کونسل آسٹریلیا اور امامِ جمعہ ملبورن، حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید ابوالقاسم رضوی نے خطبۂ جمعہ میں اصلاحِ معاشرہ، حلال رزق کی اہمیت، دعا کی قبولیت اور موجودہ عالمی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصلاح کا سفر ہمیشہ اپنی ذات سے شروع ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ انسان کو دوسروں کی اصلاح کی فکر کرنے سے پہلے اپنے کردار، اعمال اور طرزِ زندگی کا جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ حقیقی اصلاح کا آغاز انسان کے اپنے اندر سے ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں مثبت تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب ہر فرد اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے اپنی ذات کی اصلاح کی کوشش کرے۔

مولانا سید ابوالقاسم رضوی نے مزید کہا کہ انسان کو ان لوگوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے جو بدلہ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بلکہ ان لوگوں کے معاملے میں زیادہ محتاط رہنا چاہیے جو اپنا معاملہ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیتا ہے، اس کا توکل اور صبر اسے ایک خاص قوت عطا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی میں بعض اوقات انسان کو ایسے لوگوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اس کے لیے اپنے دروازے بند کر دیتے ہیں، تاہم انسان کو مایوس ہونے کے بجائے اپنے وقار اور خودداری کو برقرار رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ "جو آپ کے لیے دروازہ بند کر دے، اسے یہ احساس دلا دیں کہ کنڈی دونوں طرف ہوتی ہے۔"

حلال رزق اور قبولیتِ دعا

خطبۂ جمعہ میں مولانا سید ابوالقاسم رضوی نے حلال رزق کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حدیثِ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم پیش کی:

مَنْ أَكَلَ مِنَ الْحَلَالِ الْقُوتَ صَفَا قَلْبُهُ وَرَقَّ وَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ وَلَمْ يَكُنْ لِدَعْوَتِهِ حِجَابٌ

انہوں نے اس روایت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ (ص) نے فرمایا کہ جو شخص حلال لقمہ کھاتا ہے، اس کا دل پاکیزہ اور نرم ہو جاتا ہے، اس کی آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں اور اس کی دعا کی قبولیت میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوتی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حلال رزق صرف انسان کے ظاہری کردار پر اثر انداز نہیں ہوتا بلکہ اس کے روحانی اور اخلاقی کردار کو بھی سنوارتا ہے۔ پاکیزہ رزق انسان کے دل میں نرمی، خشوع اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔

ظہورِ امام زمانہؑ کی امید اور عالمی حالات

مولانا سید ابوالقاسم رضوی نے خطبے کے دوران موجودہ عالمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ، یہ حق کے عروج اور باطل کے زوال کا زمانہ ہے اور ہم ظہورِ امام زمانہ علیہ السلام کے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ حق کی آواز اب عالمی سطح پر بھی سنی جا رہی ہے اور نیویارک کے ایوانوں تک اس کی بازگشت پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے اسے اپنے بیان کے مطابق رہبر کی شہادت کا ثمرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی آواز پوری دنیا سن رہی ہے اور ان کے مطابق اسرائیل عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔

مولانا سید ابوالقاسم رضوی نے کہا کہ موجودہ حالات میں اہلِ ایمان کو امید، صبر، استقامت اور اپنے دینی و اخلاقی فرائض پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ ان کے مطابق حق و باطل کی کشمکش میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنی ذات کی اصلاح کرے، حلال رزق اختیار کرے، اللہ تعالیٰ پر توکل رکھے اور اپنے کردار و عمل کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha